ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مظفر پور کے اسپتال کے پیچھے انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں برآمد، علاقے میں سنسنی

مظفر پور کے اسپتال کے پیچھے انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں برآمد، علاقے میں سنسنی

Sat, 22 Jun 2019 21:46:51    S.O. News Service

مظفر پور، 22 /جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بہار کے مظفر پورواقع شری کرشنا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل  (ایس کے ایم سی ایچ) کے پیچھے انسانی ہڈیاں اور ڈھانچوں  کے باقیات ملنے سے سنسنی پھیل  گئی  ہے۔ یہ وہی اسپتال ہے جہاں چمکی بخار سے اب تک 108 بچوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہسپتال کے پچھلے حصے میں بنے جنگل میں ایک تھیلے میں قریب 100 لوگوں کے ڈھانچے یا    باقیات پائے گئے  ہیں۔

خیال رہے کہ چمکی بخار سے ہوئی  اموات سے ہسپتال انتظامیہ پہلے ہی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ دوسری طرف تھیلے میں اتنی بڑی تعداد میں ڈھانچوں کے ملنے سے پوری انتظامیہ ہل گئی ہے ۔ان کو نہ ہی جلایا کیا ہے  اور نہ ہی انہیں دفنایا  گیا ہے۔ایس کے ایم سی ایچ کے ایک تفتیشی ٹیم نے پولیس کے ساتھ انسانی ڈھانچہ ملنے والی جگہ کا معائنہ کیا۔ہسپتال کے پیچھے موجود جنگل میں ایک یا دو جلی ہوئی لاشیں بھی ملی ہیں۔ساتھ ہی 100 لوگوں کے  باقیات  زمین پر  اور بوریوں میں بھرے ہوئے پائے گئے ہیں۔

بہار محکمہ صحت نے بھی اس معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔اس درمیان ایک تحقیقاتی ٹیم اس جگہ پر پہنچ گئی ہے، جہاں  ڈھانچے پڑے   ہوئے پائے گئے تھے۔اہیاپور کے ایس ایچ او سونا پرساد سنگھ نے کہاکہ جانچ کے بعد ہی اس کا انکشاف ہو پائے گا کہ لاوارث لاشوں کو  یہاں کس طرح جلایا گیا۔ ڈاکٹر وپن کمار نے تصدیق کی ہے کہ ڈھانچوں کے  باقیات یہاں ملے ہیں اور اس معاملے کی تفصیلی معلومات فراہم کی جائے گی۔ ایسے میں ہسپتال کے نگراں پاسوان نے بتایاکہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کو  ہسپتال کے پیچھے واقع جنگل میں پھینکا جاتا ہے، البتہ میں نے کبھی ان ڈھانچوں کے بارے میں اتھارٹی سے پوچھنے کی کوشش نہیں کی۔

ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سنیل کمار شاہی نے کہاکہ پوسٹ مارٹم محکمہ لاشوں کی دیکھ بھال کرتا ہے،اگر کھلے میں ڈھانچہ اور لاشیں ملی ہیں تو یہ واقعی غیر انسانی ہے،ہم محکمہ کے سربراہ سے اس پر تحقیقات بٹھانے کے لئے کہیں گے۔ اصولوں کے مطابق جب ہسپتال کو کوئی لاش ملتی ہے  تو قریبی پولیس اسٹیشن سے فوری طور پر رابطہ کرنا ہوتا ہے اور اس سلسلے میں ایک رپورٹ فائل کرنی ہوتی ہے۔رپورٹ فائل ہونے کے بعد 72 گھنٹے بعد تک لاش کو پوسٹ مارٹم کے کمرے میں ہی رکھنا ہوتا ہے۔  اس دوران اگر خاندان کا کوئی رکن لاش کی شناخت کے لئے نہیں آتا ہے تو پوسٹ مارٹم محکمہ کی ڈیوٹی ہے کہ اس کی تدفین کی جائے یا پھر دفن کیا جائے۔تصاویر جو سامنے آ رہی ہیں، اس میں   اسپتال کے پچھلے حصے میں  انسانی ڈھانچوں  کے ساتھ ہی  کچھ کپڑے بھی دکھائی دئے  ہیں۔


Share: